Type Here to Get Search Results !

Phir yun huwa ki mar ke dikhana pada mujhe | Urdu Sad Ghazal

Views 0

یہ بھی پڑھیں

 پسندیدہ غزل


مرتی ہوئی زمیں کو بچانا پڑا مجھے

بادل کی طرح دشت میں آنا پڑا مجھے


وہ کر نہیں‌ رہا تھا مری بات کا یقیں

پھر یوں ہوا کہ مر کے دکھانا پڑا مجھے


بھولے سے میری سمت کوئی دیکھتا نہ تھا

چہرے پہ ایک زخم لگانا پڑا مجھے


اس اجنبی سے ہاتھ ملانے کے واسطے

محفل میں سب سے ہاتھ ملانا پڑا مجھے


یادیں تھیں دفن ایسی کہ بعد از فروخت بھی

اس گھر کی دیکھ بھال کو جانا پڑا مجھے


اس بے وفا کی یاد دلاتا تھا بار بار

کل آئینے پہ ہاتھ اٹھانا پڑا مجھے


ایسے بچھڑ کے اس نے تو مر جانا تھا حسنؔ

اس کی نظر میں خود کو گِرانا پڑا مجھے


حسنؔ عباسی

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad