Type Here to Get Search Results !

Nizamat Shayari | Nizamat Poetry | Nizamat Ashaar Urdu

Views 0

Also Read

Nizamat Shayari | Nizamat Poetry | Nizamat Ashaar Urdu

nizamat shayari | nizamat shayari urdu | nizamat ki shayari
nizamat ki shayari urdu | urdu shayari nizamat ke ashaar 
nizamat wali shayari | nizamat ka shayari | nizamat ki shayari urdu lyrics 
nizamat ke sher o shayari | nizamat ke liye urdu shayari | nizamat shayari lyrics
nizamat sher o shayari | nizamat shayari text | islamic urdu shayari
islamic beautiful urdu shayari | islamic shayari in urdu text

Nizamat Shayari | Nizamat Poetry

آغـــازِ بـــزم سـے قـــبــل

خدا کے نام سے جلسے کا ہم آغاز کرتے ہیں
وہی مالک ہے، ہم اس کے کرم پر ناز کرتے ہیں
✰✰✰

ہر ابتداء سے پہلے ہر انتہا کے بعد
ذاتِ نبی بلند ہے ذاتِ خدا کے بعد

دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ
میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفیٰ کے بعد 
✰✰✰

آج بزمِ مصطفیٰ ﷺ ہے سب کو آنا چاہئے
عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ تشریف لانا چاہئے

کہاں ہو غوث و خواجہ کے او دیوانو اِدھر آؤ
 کہ ذکرِ سرورِ عالم ﷺ کا جلسہ ہونے والا ہے
✰✰✰

آؤ خوابیدہ مقدر کو جگایا جاۓ
حکمِ آقا ﷺ پہ عمل کر کے دکھایا جاۓ

پر چمِ دینِ نبی ﷺ آۓ نظر چاروں طرف
اس طرح پرچمِ اسلام اٹھایا جاۓ

رحمت و نور کی برسات جہاں ہوتی ہو
بس وہیں چل کے شب وروز نہایا جاۓ

 اور آج اس نورانی محفل کو دیکھتے ہوے میں کہوں گا۔

رحمت و نور کی برسات یہیں ہونی ہے
 آج شب بھر یہیں آکر کے گزارا جاۓ
❁〰〰〰〰〰〰✰✰✰〰〰〰〰〰〰❁

Nizamat Shayari | Nizamat Poetry

دعـــوت تــلاوت سـے قـــبــل

آغاز ہو جلسے کا قرآں کی تلاوت سے
مسرور دلِ مؤمن ہو اس کی حلاوت سے

قرآں کی تلاوت سے یوں دل کو منور کر
اک آیت ِ قرآں پڑھ، اک راہ مقرر کر

اسی کے فضل سے آغاز کا انجام ہوتا ہے
اسی کی مہربانی سے جہاں کا کام ہو تاہے
✰✰✰

گھر میں قرآنِ مقدس کی تلاوت کیوں نہیں؟
سنتِ سرکار ﷺ اپنانے کی چاہت کیوں نہیں؟

ذکرِ حق ، ذکرِ خدا کی تم کو عادت کیوں نہیں
اپنے کام و کاج میں، پاسِ شریعت کیوں نہیں؟
✰✰✰

شرافت صداقت دیانت ہیں موتی
یہ موتی ہمیشہ لٹاتا ہے قرآں

جہالت کا نقشہ مٹاکر دلوں سے
ہدایت کا رستہ چلاتا ہے قرآں

مبارک ہو احباب اس کی تلاوت
کہ رحمت کا دریا بہاتا ہے قرآں

محفل کی ابتداء ہے قرآنِ مجید سے
رحمت کے پھول برسیں گے ذکرِ سعید سے
✰✰✰

سناؤ نغمہ قرآں کہ ہم بیدار ہو جائیں
اندھیروں سے نکل کر صاحبِ انوار ہو جائیں

پریسوں کی مشینوں کی ندیم ہم کو ضرورت کیا
کہ جب سِینوں میں بچوں کے ہمارے تیس پارے ہیں

یہ بچے ہیں مگر اسلام کی آنکھوں کے تارے ہیں
یہ بچے حافظِ قرآں رسول اللہ ﷺ کے پیارے ہیں
✰✰✰

صحرا میں جنگلوں میں بیابان میں پڑھو
مینار گر پڑے ہیں تو میدان میں پڑھو

یہ بے خبر نُجومی تمہیں کیا بتائیں گے
کل ہونے والا کیا ہے یہ قرآن میں پڑھو
✰✰✰

دنیا کی کتابوں میں قرآن چمکتا ہے
قرآن میں اللہ کا فرمان چمکتا ہے

معمول بنا لےجو قرآن کی تلاوت کو 
 اللہ کی نظروں میں وہ انسان چمکتا ہے
❁〰〰〰〰〰〰✰✰✰〰〰〰〰〰〰❁

Nizamat Shayari | Nizamat Poetry

تـــــلاوت کــــــے بــــعـــــد

ہے قولِ محمد قولِ خدا  فرمان نہ بدلا جائے گا
بد لے گا زمانہ لا کھ مگر قرآن نہ بدلاجائے گا
✰✰✰

سب کتابوں سے بھَلا قرآن ہے
یہ ہمـــارا دین ہے ایـمــــان ہے

ہے تلاوت اس کی برکت کا سبب
سُن کے جان و دل میرا قربان ہے
❁〰〰〰〰〰〰✰✰✰〰〰〰〰〰〰❁

Nizamat Shayari | Nizamat Poetry

دعـوتِ نعـت خـوانی سے قـبـل

نعت ہی دل کے دھڑکنے کا ذریعہ ہے ندیمؔ
نعت ہی میری سماعت، مری بینائی ہے

نعتِ سرکارِ دوعالم ﷺ ہی کہے جاؤ سدا
ورنہ کس کام کی یہ نعمتِ گویائی ہے
✰✰✰

نہ مئے کا ذکر نہ پینے کی بات کرتے ہیں
ہم اہلِ دل ہیں مدینے کی بات کرتے ہیں

ابھی نہ چھیڑ صبا سنبل و گلاب کی بات
ابھی نبی ﷺ کے پسینے کی بات کرتے ہیں
✰✰✰

عشقِ نبی میں جھوم کر نعتیں سنائیے
ہم رند کو شرابِ محبت پلائیے

اتنا پلائیے کہ بجھ جائے تشنگی
اے  بُلـبُـلِ مدینہ تشریف لائیے
✰✰✰

با ادب پھر ادب کا مقام آرہا ہے
محمد ﷺ کا پھر اک غلام آرہا ہے

فــدا جن کی آواز پــر ہے زمــانہ
وہی آج شـیـریں کــلام آ رہــا ہے
✰✰✰

جب بھی میرے آقا کو سائل نے پکارا ہے
آواز یہ آئی ہے، یہ شخص ہمارا ہے

وه دولتِ شاہی کو خاطر میں نہیں لاتا
جس کا شہہ والا کے ٹکڑوں پہ گزارا ہے

یوں تو میرے عِصیاں کی ہے فہرست بڑی لیکن
سرکار دو عالم ﷺ کی رحمت کا سہارا ہے
✰✰✰

نبی ﷺ کے نام نعرہ لگا لیا جاۓ
اسی سے بزم کو نوری بنا لیا جاۓ

نبی ہیں مالک جنت خدا کے بھی محبوب
انہیں کو اپنا وسیلہ بنا لیا جاۓ

❁〰〰〰〰〰〰✰✰✰〰〰〰〰〰〰❁

Nizamat Shayari | Nizamat Poetry

نـعــت خــوانـی کــے بــعــد

مــرمــر سے تراشا ہوا یہ چــاند سا پیکر
ہونٹوں سے محبت کے یہ رس گھول رہا ہے

جب نعت یہ پڑھتے ہیں تو ہوتا ہے یہ محسوس
انســـــان نہیں تـــاج مــحــل بــول رہــا ہے
✰✰✰

یہ کون تھا یہ کس نے بکھیری تھی مستیاں
ہر ذرہ صحنِ باغ کا ساغر بدوش ہے
✰✰✰

کتنی اچھی کتنی پیاری مدھ بھری آواز ہے
دل کو جو اپنا بنا لے وہ حسیں انداز ہے
✰✰✰

تخت دیتے ہیں تاج دیتے ہیں
جو بھی ہو احتیاج دیتے ہیں

جنّ وانساں کو سَرورِ عالم
بندگی کا مزاج دیتے ہیں
✰✰✰

گنگناتا ہوا یہ کون چمن سے گزرا
ہر کَلی مائلِ گُفتار نظر آتی ہے
✰✰✰

تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پر
ڈوب کر بھی میں تیرے دریا سے پیاسا نکلا

❁〰〰〰〰〰〰✰✰✰〰〰〰〰〰〰❁

Nizamat Shayari | Nizamat Poetry

دعــوتِ خـطـابت سے قـبـل

خطابت کی دنیا پہ ہے حکمرانی
دلوں کو جگاتی ہے سحرالبیانی

فدا ان کی تقریر پر ہے یقیناً
گلوں کا تبسم کلی کی جوانی
✰✰✰

لے کے گلزارِ طیبہ کے گل کی مہک
غنچئہ باغ خطابت چلے آئیے

لے کے جامِ خطابت کی سر مستیاں
واعــظِ اہــلِ سنّت چـلے آئیے
✰✰✰

الله عزوجل کا پیغام زمانے کو سنا دو
غفلت میں پڑے سوئے ہیں جو ان کو جگا دو

گر چاہو تو اسلام کے پرچم کو اٹھا کر
تم قطرۂ شبنم کو بھی ایک دریا بنادو
✰✰✰

آج اپنی بے قراری کو قرار آ ہی گیا
جس کا شدت سے رہا ہے انتظار آ ہی گیا

واعظِ بے مثل کی آمد سے اے اہلِ چمن
اس علاقے میں بھی اب رنگِ بہار آ ہی گیا

❁〰〰〰〰〰〰✰✰✰〰〰〰〰〰〰❁

Nizamat Shayari | Nizamat Poetry

بــــعـــد خــــطــــابـــت

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر ر کھتی ہے
پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

آپ کا محکم عمل ہے قول پُر تنویر ہے
اور قلم باطل کی فوجوں کے لئے شمشیر ہے
کیسی باطل سوز ان کی گرمِئیے تقریر ہے
لعل و گوہر بار ان کا خامۂ تحریر ہے
✰✰✰

نہ یہ رات ختم ہوتی نہ یہ بات ختم ہوتی
جو پیاس دل کی بجھتی تو کچھ اور بات ہوتی

سن کر بیان آپ کا حیران رہ گئے
نکلے نہیں کسی کے بھی ارمان رہ گئے
✰✰✰

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں چل دیے داستاں کہتے کہتے

ان کی تقریر میں دریا کی روانی دیکھی
غنچہ و گل کی رنگین جوانی دیکھی
✰✰✰

اللہ رے موصوف کی رنگین بیانی
ہر لفظ ہے گلدستۂ گلزار معانی

ٹھہرے ہوۓ لہجہ میں ہے گنگا کی روانی
الفاظ کی بندش میں ہے جمنا کی جوانی

الفاظ کی آمد کا یہ عالم تھا کہ جیسے
ساون کے مہینے میں برستا ہوا پانی
✰✰✰

طارق کبھی موجوں کے قدم لیتے ہیں
خالد کبھی ہاتھوں میں عَلَم لیتے ہیں

ہر دور میں اٹھتے ہیں یزیدی فتنے
ہر دور میں شبیر جنم لیتے ہیں
❁〰〰〰〰〰〰✰✰✰〰〰〰〰〰〰❁

Nizamat Shayari | Nizamat Poetry

مـتــفــرق اشـعــار

اک نیا انداز لے کر آؤ بزمِ ناز میں
ساری محفل جھوم اٹھے آپ کی آواز میں
✰✰✰

یہی ہے آرزو تعلیمِ قرآں عام ہو جائے
ہر اک پرچم سے اونچا پرچمِ اسلام ہو جائے
✰✰✰

یہ دینی مدرسے ہیں دیکھ مت مشکوک نظروں سے
بُرائی سے یہاں تو بچہ بچہ دور رہتا ہے

یہاں دامن پہ کوئی داغ تجھ کو مل نہیں سکتا
یہاں تو سب کے ماتھے پہ خدا کا نور رہتا ہے
✰✰✰

کتابِ فطرت کے سرورق پر جو نامِ احمد رقم نہ ہوتا
تو نقشِ ہستی ابھر نہ سکتا، وجودِ لوح و قلم نہ ہوتا
یہ محفلِ کن فکاں نہ ہوتی جو وہ امامِ اُمم نہ ہوتا
زمیں نہ ہوتی، فلک نہ ہوتا، عرب نہ ہوتا، عجم نہ ہوتا
✰✰✰

عشقِ رسولِ پاک میں ڈھلنے لگی ہے رات
ذکرِ نبی سے آج مہکنے لگی ہے رات
ذکر رسولِ پاک کا جب ذکر چھڑ گیا
دیکھو قدم قدم پہ سنبھلنے لگی ہے رات
✰✰✰

یا الہی میری ہستی کو  سمندر  کر دے
مجھ کو آقا کی محبت میں قلندر کر دے

جب بھی چاہوں میں کروں روضۂ اطہر کا طواف
مجھ کو طیبہ کے میناروں کا کبوتر کردے
✰✰✰

سورج کی ہو کرن کہ ضیا ماہتاب کی
خیرات ہیں یہ حسنِ رسالت مآب  کی

میں نے پسند ذاتِ محمدﷺ کو کرلیا
لائے کوئی مثال میــــرے انتخاب کی
✰✰✰

عطر کی، عود کی، عنبر کی، چمن کی خوشبو
سب سے اچھی ہے شہِ دیں کے وطن کی خوشبو

جن پہ سو جان سے قرباں ہے بہارِ جنت
وہ تو ہے سیدِ عالم ﷺ کے بدن کی خوشبو
✰✰✰

نام اس کا ملّتِ بیضا کے پروانوں میں ہے
وہ بہر صورت عظیم الشان انسانوں میں ہے

وَلولہ اسلام کا اس کی رگوں میں ہے رواں
لرزہ اس کی فکر سے باطل کے ایوانوں میں ہے
✰✰✰

مری فطرت نہیں پابندیوں کے ساتھ جینے کی
غلامی پاؤں میں کب تک مرے زنجیر ڈالے گی

مسلمانو! سروں پر ٹوپیاں رکھ کر چلو اپنے
یہی پہچان دشمن کا کلیجہ چیر ڈالے گی
✰✰✰

پھنس گئے دام میں ہم جب سے نشیمن چھوڑا
نکہتِ گُل نہ ملی جب سے ہے گلشن چھوڑا

ہم کہیں کے نہ رہے عــــزّتِ بـاری کی قَــسَـم
جب سے اللہ کے محبوب ﷺ کا دامن چھوڑا
✰✰✰

یہ مانا اہلِ ہُوش اکثر مجھے غافل سمجھتے ہیں
مگر یہ دل کی باتیں ہیں جو اہلِ دل سمجھتے ہیں

جدھر نظریں اٹھاتا ہوں یہی محسوس کرتا ہوں
کہ گویا اہلِ محفل میرا رازِ دل سمجھتے ہیں
✰✰✰

رسائی حضرتِ جبریل کی سدرہ کے مکاں تک ہے
مگر مــعـــراجِ سَروَر تو مـکاں سے لا مکاں تک ہے

بلندی ان کی اے عـــرشیؔ بتاؤں کیـا کہــاں تـک ہے
وہیں تک دیکھ سکتا ہے نظر جس کی جہاں تک ہے
✰✰✰

لحد میں روشنی کے واسطے سامان لایا ہوں
میں اپنے دل میں رکھ کر آیت قرآن  لایا ہوں

خدا پوچھے گا محشر میں بتا کیا لایا ہے دنیا سے
تو کہہ دوں گا تیرے محبوب پر ایمان لایا ہوں
✰✰✰

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
✰✰✰

یہ نہ پوچھو گفتگو میں کیا اثر رکھتا ہے وہ
سنگ دل کو موم کرنے کا ہنر رکھتا ہے وہ
✰✰✰

یہ خود محروم ہوکر رہ گیا شمشیرِ ایماں سے
وگرنہ آج بھی دنیا لرزتی ہے مسلماں سے
✰✰✰

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر
اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر
✰✰✰

نکہتِ فکر سے لفظوں کا سمندر مہکے
ذکرِ سرکار ﷺ سے محفل کا مقدر مہکے

نوٹ:- اشعار پسند آۓ تو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر ضرور کریں شکریہ

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad