Type Here to Get Search Results !

Zara yaad karo emotional shayari

Views 0

Also Read

اپنے گزرے ہوئے لمحات ذرا یاد کرو

روز ہوتی تھی ملاقات ذرا یاد کرو


کیا سہانی تھی گھڑی کیسا سہانا موسم

چاند تاروں کی حسیں رات ذرا یاد کرو


تم اگر بھول گئے ہو تو کوئی بات نہیں

اس انگوٹھی کی وہ سوغات ذرا یاد کرو


چھت پہ آ جاتے تھے کپڑوں کا بہانا کر کے

کیا محبت کے تھے جذبات ذرا یاد کرو


میری مرضی میں ہوا کرتی تھی تیری مرضی

کتنے ملتے تھے خیالات ذرا یاد کرو


کس قدر میری محبت کے زمانہ تھا خلاف

بس اکیلی تھی مری ذات ذرا یاد کرو


غم کے بادل جو اٹھا کرتے تھے دل پر عارفؔ

اپنے اشکوں کی وہ برسات ذرا یاد کرو


سید عارف علی عارف

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad