Type Here to Get Search Results !

Sunte hain ke mehshar mein tazmeen naat lyrics

Views 0

یہ بھی پڑھیں

 Sunte hain ke mehshar mein tazmeen naat lyrics

جن کے لئے یہ بزمِ کونین سجائی ہے
یعطیک فترضی سے جو شان بڑھائی ہے
مقطع میں کھلے گی جو مطلع میں بجھائی ہے
سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
گر اُن کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے


جب یاس کے عالم میں کی غم نے چڑھائی ہے
تو رحمتِ آقا نےایہ آس دلائی ہے
گھبرا نہ مرے پیارے اب تیری بھلائی ہے
مچلا ہے کہ رحمت نے امّید بندھائی ہے
کیا بات تِری مجرم کیا بات بنائی ہے


پوچھی بھی نہ کچھ حالت نہ پیار دیا ہم کو
بس آنکھوں میں اشکوں کا انبار دیا ہم کو
احباب نے بھی لفظِ انکار دیا ہم کو
سب نے صفِ محشر للکار دیا ہم کو
اے بے کسوں کے آقا! اب تیری دہائی ہے


دنیا کی محبت میں عقبیٰ نہ بنا اپنا
نیکی سے بھی مستحکم رشتہ نہ بنا اپنا
غیروں کو تو رہنے دو اپنا نہ بنا اپنا
بازارِ عمل میں تو سودا نہ بنا اپنا
سرکارِ کرم تجھ میں عیبی کی سمائی ہے

مکہ کی بلندی سے انکار کسیے ناقد
لیکن درِ آقا پہ ہو جاتا ہے دل ساجد
دونوں ہی تقدس کا حامل ہے خدا شاہد
طیبہ نہ سہی افضل مکّہ ہی بڑا زاہد
ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے


ہے خوب حسیں مطلع واللہ رضا واللہ
کم اس سے نہیں مقطع واللہ رضا واللہ
ہر شعر بہت عمدہ واللہ رضا واللہ
مطلع میں یہ شک کیا تھا واللہ رضؔا واللہ
صرف اُن کی رسائی ہے صرف اُن کی رسائی ہے

✰✰✰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad