Type Here to Get Search Results !

Mile to ham aaj bhi

Views 0

Also Read

 ملے تو ہم آج بھی ہیں لیکن 

نہ میرے دل میں وہ تشنگی تھی 


کہ تجھ سے مل کر کبھی نہ بچھڑوں 

نہ آج تجھ میں وہ زندگی تھی 


کہ جسم و جاں میں ابال آئے 

نہ خواب زاروں میں روشنی تھی 


نہ میری آنکھیں چراغ کی لو 

نہ تجھ میں ہی خود سپردگی تھی 


نہ بات کرنے کی کوئی خواہش 

نہ چپ ہی میں خوبصورتی تھی 


مجسموں کی طرح تھے دونوں 

نہ دوستی تھی نہ دشمنی تھی 


مجھے تو کچھ یوں لگا ہے جیسے 

وہ ساعتیں بھی گزر گئی ہیں 


کہ جن کو ہم لا زوال سمجھے 

وہ خواہشیں بھی تو مر گئی ہیں 


جو تیرے میرے لہو کی حدت 

کو آخرش برف کر گئی ہیں 


محبتیں شوق کی چٹانوں 

سے گھاٹیوں میں اتر گئی ہیں 


وہ قربتیں وہ جدائیاں سب 

غبار بن کر بکھر گئی ہیں 


اگر یہ سب کچھ نہیں تو بتلا 

وہ چاہتیں اب کدھر گئی ہیں 


احمد فراز




🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad