Type Here to Get Search Results !

Phir Ke Gali Gali Tabah Tazmeen Lyrics

Views 0

یہ بھی پڑھیں

 Phir Ke Gali Gali Tabah Tazmeen Lyrics


دنیا کے سامنے کبھی دستِ طلب بڑھائے کیوں
رودادِ غم کسی کو بھی جاکر بھلا سنائے کیوں
ان کا فقیر غیر کے در پہ صدا لگائے کیوں

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
دل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں


بیمار عشق مصطفی رکھتا ہے منفرد ادا
دنیا کے ہر علاج کا خود ہے وہ کارگر دوا
جو ہے غلام مصطفی دیتا ہے بس یہی صدا

جان ہے عشقِ مصطفیٰ روز فزوں کرے خدا
جس کو ہو درد کا مزہ نازِ دوا اُٹھائے کیوں


مدحت نبی کی کر رقم یہ بھی ہے مشغلہ اہم
تو بھی بنے گا محتشم ان کا اگر ہوا کرم
دنیا کے چھوڑ پیچ و خم سن اے اخئ محترم

یادِ حضور کی قسم غفلتِ عیش ہے ستم
خوب ہیں قیدِ غم میں ہم کوئی ہمیں چھڑائے کیوں


دل میں حضور کا دیار نظروں میں جالئ مزار
یادِ حبیبِ کردگار ہے وجہ راحت و قرار
دل پہ ہے جن کا اختیار وہ ہیں رسولِ باوقار

ہم تو ہیں آپ دل فگار غم میں ہنسی ہے نا گوار
چھیڑ کے گل کو نو بہار خون ہمیں رُلائے کیوں


زخم جگر کو دیکھئے کیسے اٹھائے ہے قمر
جیسے انوکھی چیز ہو ویسے لگائے ہے قمر
اپنی اسی ادا سے ہی دنیا کو بھائے ہے قمر

اُن کے جلال کا اثر دل سے لگائے ہے قمر
جو کہ ہو لوٹ زخم پر داغِ جگر مٹائے کیوں


کرکے جرم ناروا نغمے خوشی کے گائیں ہم
روزِ جزا کی فکر ہے ایسے میں مسکرائیں ہم
پڑھ کے رضا کا شعر یہ عقبیٰ نہ کیوں بنائیں ہم

ہے تو رضاؔ نرا ستم جرم پہ گر لجائیں ہم
کوئی بجائے سوزِ غم سازِ طرب بجائے کیوں


تضمین نگار:- شاعرِ اسلام مولانا محبوب گوہر اسلام پوری صاحب
✰✰✰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad