Type Here to Get Search Results !

Woh Sarware Kishware Risalat | Kalaame Ala Hazrat

Views 0

Also Read

 وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے 
نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کےلیے تھے

بہار ہے شادیاں مبارک چمن کو آبادیاں مبارک
مَلک فلک اپنی اپنی لے میں یہ گھر عنادل کا بولتے تھے

وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھی دھومیں 
اُدھر سے انوار ہنستے آتے اِدھر سے نفحات اُٹھ رہے تھے

یہ چھوٹ پڑتی تھی اُن کے رُخ کی کہ عرش تک چاندنی تھی چھٹکی
وہ رات کیا جگمگا رہی تھی جگہ جگہ نصب آئنے تھے

نئی دلھن کی پھبن میں کعبہ نکھر کےسنورا، سنور کے نکھرا 
حجر کے صدقےکمرکےاِک تل میں رنگ لاکھوں بناؤ کے تھے

نظر میں دولھا کے پیارے جلوے حیا سے محراب سر جھکائے
سیاہ پردے کے منھ پر آنچل تجلّیِ ذات بحت سے تھے

خوشی کےبادل امنڈ کے آئے دلوں کے طاؤس رنگ لائے 
وہ نغمۂ نعت کا سماں تھا حرم کو خود وجد آ رہے تھے

یہ جھوما میزابِ زر کا جھومر کہ آرہا کان پر ڈھلک کر 
پھوہار برسی تو موتی جھڑ کر حطیم کی گود میں بھرے تھے

دُلھن کی خوشبو سے مست کپڑے نسیمِ گستاخ آنچلوں سے 
غلافِ مشکیں جو اڑ رہا تھا غزال نافے بسا رہے تھے

پہاڑیوں کا وہ حُسنِ تزئیں وہ اونچی چوٹی وہ ناز و تمکیں!
صبا سے سبزے میں لہریں آتیں دوپٹے دھانی چنے ہوئے تھے

نہا کے نہروں نے وہ چمکتا لباس آبِ رواں کا پہنا 
کہ موجیں چھڑیاں تھیں دھار لچکا حبابِ تاباں کے تھل ٹکے تھے

پرانا پر داغ ملگجا تھا اٹھا دیا فرش چاندنی کا 
ہجومِ تارِ نگہ سے کوسوں قدم قدم فرش بادلے تھے

غبار بن کر نثار جائیں کہاں اب اُس رہ گزر کو پائیں 
ہمارے دل حوریوں کی آنکھیں فرشتوں کے پر جہاں بچھے تھے

خدا ہی دے صبر جانِ پُر غم دکھاؤں کیوں کر تجھے وہ عالم 
جب اُن کو جھرمٹ میں لے کے قدسی جناں کا دولھا بنا رہے تھے

اتار کر ان کے رخ کا صدقہ یہ نور کا بٹ رہا تھا باڑا 
کہ چاند سورج مچل مچل کر جبیں کی خیرات مانگتے تھے

وہی تو اب تک چھلک رہا ہے وہی تو جوبن ٹپک رہا ہے 
نہانےمیں جو گرا تھا پانی کٹورے تاروں نے بھر لیے تھے

بچا جو تلووں کا ان کےدھوون بنا وہ جنّت کا رنگ و روغن
جنھوں نے دولھا کی پائی اُترن وہ پھول گلزارِ نور کے تھے

خبر یہ تحویلِ مہر کی تھی کہ رُت سہانی گھڑی پھرے گی
وہاں کی پوشاک زیبِ تن کی یہاں کا جوڑا بڑھا چکے تھے

تجلیِ حق کا سہرا سر پر صلاۃ و تسلیم کی نچھاوڑ 
دو رویہ قدسی پرے جما کر کھڑے سلامی کے واسطے تھے

جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اُترن 
مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نا مُرادی کے دن لکھے تھے

ابھی نہ آئے تھے پشتِ زیں تک کہ سر ہوئی مغفرت کی شلک
صدا شفاعت نے دی مُبارک گناہ مستانہ جھومتے تھے

عجب نہ تھا رخش کا چمکنا غزالِ دم خوردہ سا بھڑکنا 
شعاعیں بکے اُڑا رہی تھیں تڑپتے آنکھوں پہ صاعقے تھے

ہجومِ اُمّید ہے گھٹاؤ مُرادیں دے کر انھیں ہٹاؤ
ادب کی باگیں لیے بڑھاؤ ملائکہ میں یہ غلغلے تھے

اٹھی جو گردِ رہِ منوّر وہ نور برسا کہ راستے بھر
گھرے تھے بادل بھرے تھے جل تھل اُمنڈ کے جنگل اُبل رہے تھے

سِتم کیا کیسی مت کٹی تھی قمر وہ خاک اُن کے رہ گزر کی 
اٹھا نہ لایا کہ ملتے ملتے یہ داغ سب دیکھتا مٹے تھے

بُراق کےنقشِ سُم کے صدقے وہ گل کھلائے کےسارے رستے 
مہکتے گلبن لہکتے گلشن ہرے بھرے لہلہا رہے تھے

نمازِ اقصیٰ میں تھا یہی سرّ عیاں ہوں معنیِ اوّل آخر
کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کر گئے تھے

یہ اُن کی آمد کا دبدبہ تھا نکھار ہر شے کا ہو رہا تھا
نجوم و افلاک جام و مینا اجالتے تھے کھنگالتے تھے

نقاب الٹے وہ مہرِ انور جلالِ رُخسار گرمیوں پر!
فلک کو ہیبت سے تپ چڑھی تھی تپکتے انجم کے آبلے

یہ جوششِ نور کا اثر تھا کہ آبِ گوہر کمر کمر تھا 
صفائے رہ سے پھسل پھسل کر ستارے قدموں پہ لوٹتے تھے

بڑھا یہ لہرا کے بحرِ وحدت کہ دُھل گیا نامِ ریگِ کثرت 
فلک کے ٹیلوں کی کیا حقیقت یہ عرش و کرسی دوبلبلے تھے

وہ ظِلِّ رحمت وہ رخ کے جلوے کہ تارے چھپتے نہ کھلنے پاتے 
سنہری زربفت اودی اطلس یہ تھان سب دھوپ چھاؤں کے تھے

چلا وہ سروِ چماں خراماں نہ رُک سکا سدرہ سے بھی داماں 
پلک جھپکتی رہی وہ کب کے سب این و آں سے گزر چکے تھے

جھلک سی اِک قدسیوں پر آئی ہوا بھی دامن کی پھر نہ پائی
سواری دولھا کی دور پہنچی برات میں ہوش ہی گئے تھے

تھکے تھے روح الامیں کے بازو چھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلو
رکاب چھوٹی امید ٹوٹی نگاہِ حسرت کے ولولے تھے

روش کی گرمی کو جس نے سوچا دماغ سے اِک بھبوکا پھوٹا 
خرد کے جنگل میں پھول چمکا دَہَر دَہَر پیڑ جل رہے تھے

جِلو میں جو مرغِ عقل اڑے تھے عجب بُرے حالوں گرتے پڑتے 
وہ سدرہ ہی پر رہے تھےتھک کر چڑھا تھا دم تیور آ گئے تھے

قوی تھے مرغانِ وہم کے پر اڑے تو اڑنے کو اور دم بھر 
اٹھائی سینے کی ایسی ٹھوکر کہ خونِ اندیشہ تھوکتے تھے

سُنا یہ اتنے میں عرشِ حق نےکہ لے مبارک ہوں تاج والے 
وہی قدم خیر سے پھر آئے جو پہلے تاجِ شرف ترے تھے



❁〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️✰✰✰〰️〰️〰️〰️〰️〰️❁

📚 حدائقِ بخشش 
_______
_______
 ♡ ㅤ    ❍ㅤ       ⎙        ⌲
 ˡᶦᵏᵉ  ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ   ˢᵃᵛᵉ   ˢʰᵃʳᵉ

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad