Type Here to Get Search Results !

Soona Jungle Raat Andheri Chaayi Badli Kaali Hai Tazmeen Lyrics

Views 0

یہ بھی پڑھیں

 Soona Jungle Raat Andheri Chaayi Badli Kaali Hai Tazmeen Lyrics

بن میں ہے سناٹا طاری سہمی سہمی ڈالی ہے
صحراؤں میں جیسے کوئی آفت آنے والی ہے
دہشت کا ماحول بنا ہے چہروں پہ بدحالی ہے

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے


تیرے تعاقب میں تو ہر دم دُزْدِ شہر ہے اٹھ پیارے
پہلے سے اب بدلا بدلا رنگِ دہر ہے اٹھ پیارے
غفلت وسستی ایک طرح سے وجہ قہر ہے اٹھ پیارے

سونا پاس ہے سونا بن ہے سونا زہر ہے اٹھ پیارے
تو کہتا ہے نیند ہے میٹھی تیری مت ہی نرالی ہے


بجلی کوندے اور کبھی بادل سے بادل ٹکرائے
ایسا دہشت والا منظر دیکھ کے دہشت سی چھائے
کوئی جائے پناہ کو ڈھونڈے کوئی سن کے گھبرائے

بادل گرجے بجلی تڑپے دَھک سے کلیجا ہو جائے
بن میں گھٹا کی بھیانک صورت کیسی کالی کالی ہے


انسانی آبادی میں بھی تاریکی ہے گھر میں مکیں
وقتِ شام ہی آوازوں کو سننے والا کوئی نہیں
انساں کو تو رہنے دیجئے طائر تک ہیں گوشہ نشیں

پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں
ہاں اک ٹوٹی آس نے ہارے جی سے رفاقت پالی ہے


ان کی انگلی سے ہے جاری چشمہ آبِ رحمت کا
ان کے قدموں سے ہے گہرا رشتہ شان و شوکت کا
ان کے گھر سے ہی نکلا ہے دریا خیر و برکت کا

وہ تو نہایت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنّت کا
ہم مفلس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے


واقف ہے تو میرے عمل کی ناگفتہ بہ حالت سے
لیکن تیرے در سے مجرم بخشے گئے کیسے کیسے
تیرے کرم کی آس لگائے گوہر تجھ سے کہتا رہے

مولیٰ تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے
ورنہ رضاؔ سے چور پہ تیری ڈگری تو اقبالی ہے


تضمین نگار:- شاعرِ اسلام مولانا محبوب گوہر اسلام پوری صاحب
✰✰✰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad