Type Here to Get Search Results !

Naseeb Chamke Hain Farshiyon Ke Naat Lyrics

Views 0

Also Read

Naseeb Chamke Hain Farshiyon Ke Naat Lyrics

 
نصیب چمکے ہیں فرشیوں کے کہ عرش کے چاند آرہے ہیں
جھلک سے جن کی فلک ہے روشن وہ شمس تشریف لا رہے ہیں

زمانہ پلٹا ہے رُت بھی بدلی فلک پہ چھائی ہوئی ہے بدلی
تمام جنگل بھرے ہیں جَل تھَل، ہرے چمن لہلہا رہے تھے

ہیں وجد میں آج ڈالیاں کیوں یہ رقص پتوں کو کیوں ہے شاید
بہار آئی یہ مژدہ لائی کہ حق کے محبوب آرہے ہیں

خوشی  میں سب کی کھلی ہیں باچھیں رچی ہے شادی مچی ہے دھومیں
چرند اِدھر کھلکھلا رہے ہیں پرند اُدھر چہچہا رہے ہیں

نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں  سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں

شبِ ولادت میں سب مسلماں نہ کیوں کریں جان و مال قرباں
ابو لہب جیسے سخت کافر خوشی میں جب فیض پا رہے ہیں

زمانہ بھر کا یہ قاعدہ ہے کہ جس کا کھانا اسی کا گانا
تو نعمتیں جن کی کھا رہے ہیں انہیں کے گیت ہم بھی گا رہے ہیں

حبیبِ حق ہیں خدا کی نعمت بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ
خدا کے فرمان پر عمل ہے جو بزمِ مولا سجا رہے ہیں

تَبارک اللہ حکومت انکی زمیں تو کیا شے ہے آسماں پر
کیا اشارے سے چاند ٹکڑے چھپا ہوا خور بُلا  رہے ہیں

میں تیرے صدقے زمینِ طیبہ فدا نہ کیوں تجھ پر ہو زمانہ
کہ جن کی خاطر بنا زمانہ وہ تجھ میں آرام پا رہے ہیں

ہیں جیتے جی کے یہ سارے جھگڑے مچی جو آنکھیں تمام چھوٹے
کریم جلوہ وہاں دکھانا جہاں کہ سب منہ چھپا رہے ہیں

جو قبر میں اپنی ان کو پاؤں پکڑ کے دامن مچل ہی جاؤں
جو دل میں رہ کے چھپے تھے مجھ سے وہ آج جلوہ دکھا رہے ہیں

نکیروں پہچانتا ہوں ان کو یہ میرے آقا یہ میرے داتا
مگر تم ان سے تو اتنا پوچھو یہ مجھ کو اپنا بتا رہے ہیں

خدا کے وہ ہیں خدائی ان کی رب ان کا مولا وہ سب کے آقا
نہیں خدا تک رسائی ان کی جو ان سے نا آشنا رہے ہیں

تمام دنیا ہے مِلک جن کی ہے جَو کی روٹی خوراک ان کی
کبھی کھجوروں پر ہے گزارا کبھی چھوارے ہی کھا رہے ہیں

پھنسا ہے بحرِ اَلَم میں بیڑا  پئے خدا نا خدا سہارا
اکیلا سالکؔ ہیں سب مُخالف ہمومِ دنیا ستا رہے ہیں

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad