Type Here to Get Search Results !

Naimatain banta jis simt tazmeen lyrics

Views 0

یہ بھی پڑھیں

 Rabbe Sallim Ki Sadayen Gungunate Jayenge Naat Lyrics

چھا گیا ابرِ کرم موسم طوفان گیا
چادر نور فضاؤں میں کوئی تان گیا
سنگِ بے جان بھی دیکھا تو اسے جان گیا

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
ساتھ ہی منشیِ رحمت کا قلم دان گیا


مال و زر رکھ کے بھی مفلس رہا مجبور رہا
تیرے دربارِ کرم سے جو بشر دور رہا
تیری الفت جسے حاصل ہوئی مسرور رہا

دل ہے وہ دل جو تِری یاد سے معمور رہا
سر ہے وہ سر جو تِرے قدموں پہ قربان گیا


نہ حسد دل میں رکھا نہ لیا بیر سے کام
شر سے مطلب نہ رہا یعنی لیا خیر سے کام
کیوں ہو کعبہ کے مسافر کو بھلا دیر سے کام

اُنہیں جانا اُنہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
لِلہِ الْحَمْد میں دنیا سے مسلمان گیا


بہرِ تعظیم کھڑا ہونے کی عادت نہ سہی
بارہویں تیرے یہاں وجہ مسرت نہ سہی
گھر پہ مانا کہ ترے ذکرِ ولادت نہ سہی

اور تم پر مِرے آقا کی عنایت نہ سہی
نجدیو! کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا


عقل تیار ہے تو عشق کی حد مانگ ان سے
ہو جو تعظیم کا قائل وہ خرد مانگ ان سے
روزِ محشر کے لئے کچھ تو سند مانگ ان سے

آج لے اُن کی پناہ آج مدد مانگ اُن سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا


لے ایمان کے گوہر وہ خزینے پہونچے
چومنے بابِ شفاعت کے وہ زینے پہونچے
کتنے ارمانوں کے طیبہ میں سفینے پہونچے

جان و دل ہوش و خِرد سب تو مدینے پہونچے
تم نہیں چلتے رضاؔ سارا تو سامان گیا


تضمین نگار:- شاعرِ اسلام مولانا محبوب گوہر اسلام پوری صاحب
✰✰✰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad