Type Here to Get Search Results !

Unki mehak ne dil ke tazmeen lyrics

Views 0

یہ بھی پڑھیں

 Unki mehak ne dil ke tazmeen lyrics

دے کر خوشی کے لمحے غم سے چھڑا دیئے ہیں
تاریک رہ گزر میں شمعیں جلا دیئے ہیں
بنجر زمین پر بھی فصلیں اگا دیئے ہیں

اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیئے ہیں


رہتی ہیں بحر وبر کی وُسعت پہ ان کی آنکھیں
بھیگی ہیں عاصیوں کی حالت پہ ان کی آنکھیں
ہیں مہربان کتنی امت پہ ان کی آنکھیں

جب آ گئی ہیں جوشِ رحمت پہ اُن کی آنکھیں
جلتے بجھا دیئے ہیں روتے ہنسا دیئے ہیں

غم ہے مگر کریں ہم اظہار اس کا کتنا
میعاد اس کی کتنی مقدار اس کا کتنا
ہے تو رہے، ازالہ دشوار اس کا کتنا

اِک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا
تم نے تو چلتے پھرتے مُردے جِلا دیئے ہیں


ساحل ہے دور ہم سے موجیں ہوئی ہیں غالب
ایسے میں کون ہوگا ہم سے بھلا مخاطب
ہیں ہاتھ میں تمہارے چاہو تم مناسب

آنے دو یا ڈبو دو اب تو تمہاری جانب
کشتی تمہیں پہ چھوڑی لنگر اٹھا دیئے ہیں


شہرت کسی نے مانگی عہدہ کسی نے مانگا
عظمت کسی نے مانگی رتبہ کسی نے مانگا
حسنین مجتبیٰ کا صدقہ کسی نے مانگا

میرے کریم سے گَر قطرہ کسی نے مانگا
دریا بہا دیئے ہیں دُر بے بہا دیئے ہیں


عنوانِ شاعری ہے نعتِ رسول اکرم
تعریف جتنی کیجئے احمد رضا کی ہے کم
گوہرؔ ہیں شعر و فن کے وہ تو امام اعظم

مُلکِ سخن کی شاہی تم کو رضاؔ مسلّم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں


تضمین نگار:- شاعرِ اسلام مولانا محبوب گوہر اسلام پوری صاحب
✰✰✰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad