Type Here to Get Search Results !

Woh Kamaale Husne Huzoor Hai Tazmeen Lyrics

Views 0

یہ بھی پڑھیں

 

Woh Kamaale Husne Huzoor Hai Tazmeen Lyrics

اے قلم ذرا تو سنبھل کے چل یہ مقام وہم و گماں نہیں
ہے نبی کے حسن کا تذکرہ کسی اور کا یہ بیاں نہیں
کرے ان کی مدح کا حق ادا یہ کسی میں تاب و تواں نہیں

وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں


کہاں ان کے فضل و کمال کا کہو آج چشمہ رواں نہیں
ہے سخن میں ان کے مٹھاس بس کہیں تلخیوں کا نشاں نہیں
بخدا رسولِ کریم سا کہیں کوئی اہل زباں نہیں

میں نثار تیرے کلام پر ملی یوں تو کس کو زباں نہیں
وہ سخن ہے جس میں سخن نہ ہو وہ بیاں ہے جس کا بیاں نہیں

کہاں جا رہے ہو اِدھر اُدھر نہیں مل سکے گی کوئی ڈگر
مرے مصطفٰی کا ہی پاک در ہے خدا شناسی کی رہ گزر
ہیں رسولِ حق شہ بحر و بر بخدا خدا کے پیام بر

بخدا خدا کا یہی ہے در، نہیں اور کوئی مفر مقر
جو وہاں سے ہو یہیں آکے ہو جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں


وہ امانتوں کے امیں ہوئے وہ چراغ نور یقیں ہوئے
وہی سب سے روشن جبیں ہوئے بخدا سبھی سے حسیں ہوئے
وہی شاہِ دنیا و دیں ہوئے وہی شہرِ طیبہ مکیں ہوئے

وہی لامکاں کے مکیں ہوئے سرِ عرش تخت نشیں ہوئے
وہ نبی ہے جس کے ہیں یہ مکاں وہ خدا ہے جس کا مکاں نہیں


اے حبیبِ رب شہ بحر و بر تری عظمتیں ہیں بلند تر
تجھے نور مولیٰ کا مان کر ترا کلمہ پڑھنے لگا حجر
تری شان سمجھے گا کیا بشر تری ذات سب سے ہے معتبر

سرِ عرش پر ہے تِری گزر دلِ فرش پر ہے تِری نظر
ملکوت و مُلک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں


کسی دنیا دار نواب کا وہ قصیدہ لکھے گا کیوں بھلا
جو رسولِ پاک کا ہے گدا وہ لئے ہے شان و ادا جدا
سنو تم بھی گوہر بے نوا یہ فقیرِ طیبہ کی ہے صدا

کروں مدحِ اہلِ دُوَل رضاؔ پڑے اس بلا میں مِری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا مِرا دین پارۂ ناں نہیں

تضمین نگار:- شاعرِ اسلام مولانا محبوب گوہر اسلام پوری صاحب
✰✰✰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad