Type Here to Get Search Results !

Kya mahakte hein mahakne wale Tazmeen Lyrics

Views 0

یہ بھی پڑھیں

 Kya hai zauq afza shafaat Tazmeen lyrics

اندھے شیشے میں چمکنے والے
شبِ تیرہ میں دمکنے والے
خوشبوئے زلف چھڑکنے والے

کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
بو پہ چلتے ہیں بھٹکنے والے


لذتِ یادِ نبی پاتے ہیں
خود کو ممتاز کئے جاتے ہیں
ڈھونڈ کر لہجہ نیا لاتے ہیں

گُل طیبہ کی ثنا گاتے ہیں
نخل طوبیٰ پہ چہکنے والے


در ہے برکات کا مخزن ان کا
زائروں دیکھالو مسکن ان کا
کتنا شاداب ہے گلشن ان کا

عاصیو! تھام لو دامن اُن کا
وہ نہیں ہاتھ جھٹکنے والے


جانے والے کا ہے بیدار نصیب
کرنے والا ہے وہ دیدارِ حبیب
اس کو سمجھے نہ کوئی شخص غریب

موت کہتی ہے کہ جلوہ ہے قریب
اِک ذرا سو لیں بلکنے والے


محفلِ ذکرِ نبی روز سجے
ان کی یادوں کا نہ اک نقش مٹے
خوشبوئے گیسوئے واللیل ملے

شمعِ یادِ رُخِ جاناں نہ بجھے
خاک ہو جائیں بھڑکنے والے


معجزہ ان کی ہے ہر ایک ادا
چشمۂ فیض ہے انگلی سے بہا
وہ تو گوہر ہیں شہنشاہِ سخا

کفِ دریائے کرم میں ہیں رضاؔ
پانچ فوّارے چھلکنے والے


تضمین نگار:- شاعرِ اسلام مولانا محبوب گوہر اسلام پوری صاحب
✰✰✰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad