Type Here to Get Search Results !

Yaade Watan Sitam Kiya Tazmeen Lyrics

Views 0

یہ بھی پڑھیں

 Yaade Watan Sitam Kiya Tazmeen Lyrics

ہونے کو ہے روانگی ایسی خبر سنائی کیوں
آنا تو تھا ضرور اسے جلدی مگر دکھائی کیوں
رہنے کا شوق تھا مجھے جانے کی یاد آئی کیوں

یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
بیٹھے بٹھائے بد نصیب سر پہ بلا اٹھائی کیوں


ایسا لگا کہ کیف کی ساعت جو تھی گزر گئی
فصل کا رخ بدل گیا سمت ہوا بکھر گئی
اجڑا ہوا لگا سماں تاب نظر جدھر گئی

دل میں تو چوٹ تھی دبی ہائے غضب ابھر گئی
پوچھو تو آہِ سرد سے ٹھنڈی ہوا چلائی کیوں


آشنا اس سے جب ہوئی ہیں مصطفٰی قسیمِ خُلد
چومنے ان کی زلف کو آنے لگی شمیمِ خُلد
یعنی بہارِ گلشنِ طیبہ ہوئی ندیمِ خُلد

نامِ مدینہ لے لیا چلنے لگی نسیمِ خُلد
سوزشِ غم کو ہم نے بھی کیسی ہوا بتائی کیوں


خوشیوں کا سائبان ہے سر پہ مرے تنا ہوا
عہدِ خزاں میں پھول ہے مہکا ہوا نیا نیا
چمکا کے رکھ دیا مجھے تارا مرے نصیب کا

ہو نہ ہو آج کچھ مِرا ذکر حضور میں ہوا
ورنہ مِری طرف خوشی دیکھ کے مسکرائی کیوں


پاؤںبکو جو ڈھکا ہوں تو کھلنے لگا ہے سر مرا
کی ہے میری حیات نے مجھ کو یہی ردا عطا
روزانہ اک نیا ستم روزانہ اک نئی بلا

فکرِ معاش بد بلا ہولِ معاد جاں گزا
لاکھوں بلا میں پھنسنے کو رُوح بدن میں آئی کیوں


کیسا خزاں کا زور تھا شاخوں سے پھول جھڑ گیا
سویا تھا باغبان کیا سارا چمن اجڑ گیا
گوہر کسی زمین پر جیسے قحط ہو پڑ گیا

حسرتِ نو کا سانحہ سنتے ہی دل بگڑ گیا
ایسے مریض کو رَضاؔ مرگِ جواں سنائی کیوں


تضمین نگار:- شاعرِ اسلام مولانا محبوب گوہر اسلام پوری صاحب
✰✰✰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad