Type Here to Get Search Results !

Utha Do Parda Dikha Do Chehra Tazmeen Lyrics

Views 0

یہ بھی پڑھیں

 Utha Do Parda Dikha Do Chehra Tazmeen Lyrics

قدم قدم پہ ہے شور برپا نفس نفس اضطراب میں ہے
ہے حسرتِ دید آسماں کو تڑپ یہی ماہتاب میں ہے
چمن بھی دیدار کا ہے طالب کہ رنگ کیسا گلاب میں ہے

اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے


انہیں کے خمدار گیسوؤں کے سبب گلوں میں سہانہ پن ہے
انہیں سے شاخوں میں ہے نزاکت انہیں سے کلیوں میں بانکپن ہے
انہیں سے زیبائش رخِ گل انہیں سے گلزار میں پھبن ہے

اُنہیں کی بو مایۂ سمن ہے اُنہیں کا جلوہ چمن چمن ہے
اُنہیں سے گلشن مہک رہے ہیں اُنہیں کی رنگت گلاب میں ہے


ملا ہے دنیا کو گفتگو کا نیا نرالا اصول جن سے
ہوئی ہے گلشن کی ڈالیوں کو ادائے نازک حصول جن سے
گلوں کے انداز لے کے خوش ہیں ہزاروں خار ببول جن سے

وہ گُل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے
گلاب گلشن میں دیکھے بلبل یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے


تمہاری ذاتِ مقدسہ سے ہے آس مجھ کو حبیبِ داور
ہر آڑے وقتوں میں کام آنا تمہارا شیوہ ہے میرے سرور
گھڑی ہے اب امتحاں کی آئی ہے روح فرسا لحد کا منظر

کھڑے ہیں منکر نکیر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور
بتا دو آ کر مِرے پیمبر کہ سخت مشکل جواب میں ہے


ہے میرا ایمان اس پہ پختہ کہ تم ہو مختار حوض کوثر
تمہارا کہنا نہ ٹالتا ہے کبھی خدائے بزرگ و برتر
کرم کرو اے خدا کے پیارے ہے سیدھے سورج کی دھوپ سر پر

خدائے قہار ہے غضب پر کُھلے ہیں بدکاریوں کے دفتر
بچا لو آ کر شفیعِ محشر تمہارا بندہ عذاب میں ہے


رحیم ہے تو کریم ہے تو میں منتظر ہوں تیرے کرم کا
معاف کر دے میری خطائیں نہ کر ہجومِ بشر میں رسوا
تری کریمی پہ ناز کرکے یہ تجھ کو کہتا ہے تیرا بندہ

کریم! اپنے کرم کا صدقہ لئیمِ بے قدر کو نہ شرما
تو اور رضاؔ سے حساب لینا رضاؔ بھی کوئی حساب میں ہے


تضمین نگار:- شاعرِ اسلام مولانا محبوب گوہر اسلام پوری صاحب
✰✰✰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad