Type Here to Get Search Results !

Kya hi zauq afza shafaat Tazmeen lyrics

Views 0

یہ بھی پڑھیں

 Kya hai zauq afza shafaat Tazmeen lyrics

دونوں عالم کی ملی ہے تاجداری واہ واہ
فیض کا دریا مدینے میں ہے جاری واہ واہ
کہہ رہی ہیں یہ احادیث بخاری واہ واہ

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
قرض لیتی ہے گنہ پرہیزگاری واہ واہ


پڑھ حدیثوں کی کتابیں اور یہ معلوم کر
کس طرح صہبا میں سورج آ گیا تھا گھوم کر
اختیاراتِ رسولِ ہاشمی مرقوم کر

اُنگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر
ندّیاں پنجابِ رحمت کی ہیں جاری واہ واہ


مسکنِ نور و تجلی بن گئی آرامگاہ
طبقۂ عشاق کے دل میں بسی ہے جس کی چاہ
خلد کو نکلی ہوئی ہے جس جگہ سے سیدھی راہ

نور کی خیرات لینے دوڑتے ہیں مہر و ماہ
اٹھتی ہے کس شان سے گردِ سواری واہ واہ


ہے برابر سب پہ سلطانِ رسالت کی نگاہ
شرح مازاغ البصر ماہ نبوت کی نگاہ
ہے سیہ کارانِ امت پر شفاعت کی نگاہ

مجرموں کو ڈھونڈھتی پھرتی ہے رحمت کی نگاہ
طالعِ بر گشتہ تیری ساز گاری واہ واہ


مخزن رحمت ہے مختار دو عالم کا مزار
خوبصورت جالیوں کا دلنشیں نقش و نگار
کائناتِ حسن کا جس نے بڑھایا ہے وقار

اس طرف روضے کا نور اُس سمت منبر کی بہار
بیچ میں جنّت کی پیاری پیاری کیاری واہ واہ


غوث اعظم شاہ جیلانی کے صدقے میں رضا
تاج عظمت مل گیا آقا سے تمغے میں رضا
یہ شرف ہر گز نہیں سب کے نصیبے میں رضا

پارۂ دل بھی نہ نکلا دل سے تحفے میں رضاؔ
اُن سگانِ کُوْ سے اتنی جان پیاری واہ واہ


تضمین نگار:- شاعرِ اسلام مولانا محبوب گوہر اسلام پوری صاحب
✰✰✰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad