Type Here to Get Search Results !

Pul se utaro tazmeen lyrics

Views 0

یہ بھی پڑھیں

 Pul se utaro tazmeen lyrics

موجود اُس جگہ پہ دگر کو خبر نہ ہو
حاضر وہاں ہجومِ بشر کو خبر نہ ہو
کچھ ایسا ہو سفر کہ سفر کو خبر نہ ہو

پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
جبریل پر بچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو

شیرازہ منتشر ہے سکون و قرار کا
دل میں مرے چبھن ہے معیشت کے خار کا
مجھ سے خفا ہو جیسے کہ موسم بہار کا

کانٹا مِرے جگر سے غمِ روزگار کا
یوں کھینچ لیجیے کہ جگر کو خبر نہ ہو

بیتابی کا ہو راج دلِ بے قرار میں
دشواریوں نے رکھا ہے اپنے حصار میں
گو اجنبی سا لگتا ہو اپنے دیار میں

فریاد اُمّتی جو کرے حالِ زار میں
ممکن نہیں کہ خیرِ بشر کو خبر نہ ہو

یا رب بنا دے عاشقِ خیر الورٰی ہمیں
عشقِ صحابہ کا بھی ہو صدقہ عطا ہمیں
ایسا کہ چل نہ پائے خود اپنا پتہ ہمیں

ایسا گُما دے اُن کی وِلا میں خدا ہمیں
ڈھونڈھا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو

دل ہے درِ نبی پہ جھکا سر جھکا نہیں
سر کے لئے خدا کے سوا دوسرا نہیں
تسلیم ہے کہ شرع نے جائز کہا نہیں

اے شوقِ دل یہ سجدہ گر اُن کو روا نہیں
اچھا وہ سجدہ کیجئے کہ سر کو خبر نہ ہو

گوہر تعلقاتِ عوامی نہیں جہاں
دنیا کی بادشاہی ، غلامی نہیں جہاں
کام آئیں گے پڑوسی، مقامی نہیں جہاں

ان کے سوا رضاؔ کوئی حامی نہیں جہاں
گزرا کرے پسر پہ پدر کو خبر نہ ہو

تضمین نگار:- شاعرِ اسلام مولانا محبوب گوہر اسلام پوری صاحب
✰✰✰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad