Type Here to Get Search Results !

thi hum aagosh magar - Qateel Shifai Ghazal

Views 0

Also Read

Unlimited Shayari Thumbnail
تھی ہم آغوشی مگر کچھ بھی مجھے حاصل نہ تھا
وہ اک ایسا لمس تھا جس میں بدن شامل نہ تھا

ریت کی دلدل ملی مجھ کو سمندر پار بھی
میں وہاں اترا جہاں ساحل کبھی ساحل نہ تھا

وہ تو اک سازش تھی میرے خون کی میرے خلاف
جس کے سر الزام آیا وہ مرا قاتل نہ تھا

ہم نے کاٹے پیڑ تو سایوں کی یاد آنے لگی
لیکن اب حرف ندامت سے بھی کچھ حاصل نہ تھا

سر پہ آ گرتا ہے تکمیل محبت کا پہاڑ
ورنہ اظہار تمنا تو کوئی مشکل نہ تھا

پر لگا کر اڑ گئے آخر مری نیندوں کے ساتھ
پیار کے وہ خواب جن کا کوئی مستقبل نہ تھا

ان سے مل کر یہ بھی دیکھی شعبدہ بازی قتیلؔ
دھڑکنیں موجود تھیں سینے میں لیکن دل نہ تھا

قتیل شفائی

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

AD Banner

Below Post Ad

AD Banner