Type Here to Get Search Results !

Mustafa Jaane Rehmat Tazmeen

Views 0

یہ بھی پڑھیں

 Mustafa Jaane Rehmat Tazmeen

مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام


جن سے روشن ہیں گرد و غبار حرم
جن سے ہیرا بنا ریگزارِ حرم
جن کا چومے قدم کوہسار حرم

شہر یارِ اِرم تاجْدارِ حرم
نو بہارِ شفاعت پہ لاکھوں سلام

جن کی انگشت سے فیض کا ہے ورود
معجزہ سر سے پا تک ہے جن کا وجود
جن کے الطاف کی انتہا نہ حدود

ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد دُرود
ہم فقیروں کی ثروت پہ لاکھوں سلام


مدحِ سرکار منظوم کر اے قلم
لکھ! وہ ہیں ساری تخلیق میں محترم
اب بھی پتھر پہ ہے ان کا نقشِ قدم

کھائی قرآں نے خاکِ گزر کی قسم
اُس کفِ پا کی حرمت پہ لاکھوں سلام


عکسِ نورِ الٰہی ہے اسریٰ کا چاند
دن میں بھی جگمگاتا ہے بطحا کا چاند
ان کا دندان ہے یا کہ چہرہ کا چاند

جس سُہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اُس دِل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام


ان کا ابرِ کرم کس پہ برسا نہیں
جسم بے سایہ کا کس پہ سایہ نہیں
ان کی رحمت کا طالب میں تنہا نہیں

ایک میرا ہی رحمت میں دعویٰ نہیں
شاہ کی ساری امت پہ لاکھوں سلام


ہیں حبیبِ خدا کے ثنا خواں رضا
ان کی عظمت پہ گوہر ہیں قرباں رضا
ہند کا بن کے کہتے ہیں حساں رضا

مجھ سے خدمت کے قُدسی کہیں ہاں رضؔا
مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام


تضمین نگار:- شاعرِ اسلام مولانا محبوب گوہر اسلام پوری صاحب
✰✰✰

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad